بھٹکل:15/اپریل(ایس اؤنیوز)تعلقہ کے سرکاری اسپتال میں گائناکولوجسٹ چھٹی پر ہونے کی وجہ سے زچگی کا درد شروع ہونے کے بعداسپتال پہنچی ایک حاملہ عورت کو مجبوراً ہوناور جانا پڑا ، یہ واقعہ سنیچر کو پیش آیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس خاتون کو ہوناور اسپتال روانہ کرنے کے بعد دوسری تین حاملہ عورتیں بھی اسپتال پہنچیں اور اُن کو بھی ہوناور اسپتال جانے کی صلاح دی گئی۔ اسپتال کی بدانتظامی سے متاثرہ عورتوں اور اُس کے گھروالوں نے اس موقع پر سرکاری اسپتال کے عملہ کی سخت لعنت ملامت کی اور کہا کہ اسپتال میں ہر طرح کی سہولیات دئے جانے کے بھاشن دئے جاتے ہیں، مگر اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹر چھٹی پر ہونے کی بات کہہ کر دوسرے اسپتال جانے کے لئے کہا جاتا ہے ۔
خیال رہے کہ بھٹکل سرکاری اسپتال میں بھلے کوئی علاج ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو، مگر یہاں گائناکولوجسٹ ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے اکثر غریب حاملہ عورتیں زچگی کے لئے اُسی اسپتال کا رُخ کرتی ہیں، جس کی وجہ سے اسپتال میں ہرروز لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، مگر یہاں تعلقہ سرکاری اسپتال میں صرف ایک زچگی ماہرڈاکٹر ہے، مگر اب ڈاکٹر کےچھٹی پر چلے جانے سے حاملہ عورتیں سخت پریشان ہیں، افسوس کی بات یہ ہے کہ متعلقہ ڈاکٹر کے چھٹی پر چلے جانے کے بعد متبادل انتظام بھی نہیں کیا گیا ہے اور ڈیلیوری کے لئے نرس اسٹاف بھی آگے نہیں بڑھتیں ، انہی وجوہات کی بنا پر سنیچر کو زچگی کے لئے پہنچیں 4حاملہ عورتوں کومجبوراً ہوناور کا رخ اختیار کرنا پڑا۔
ہم لوگ یہاں زچگی کے لئے پہنچے تھے، لیکن ڈاکٹر ہی نہیں۔ اب ہم کہا ں جائیں ؟ کیا کریں ؟ ہمیں ہوناور جانے کے لئے کہا گیا ہے، اگر وہاں بھی ڈاکٹر نہ ہوں تو پھر کیا ہوگا ؟ حاملہ عورتوں نے شکایت کی کہ اُنہیں نظر انداز کیا جارہا ہے۔ عورتوں کے مطابق میڈیکل آفیسر اسپتال کے انتظامات میں سدھار لانے کی بات کہتے رہتے ہیں، لیکن کس طرح کا سدھار ہورہا ہے، نظر نہیں آرہا ہے۔
سنیچر کو اسپتال میں ہوئے معاملات کے متعلق میڈیکل آفیسر لکمیش نائک نے بتایا کہ اسپتال میں ایک ہی گائناکولوجسٹ ہیں، سال کے 365دن بھی لگاتار کام کرنا کسی بھی ڈاکٹر کے لئے ممکن نہیں ہے ، کبھی کبھار کسی کام یا مجبوری میں چھٹی پر چلے جاتے ہیں تو حاملہ عورتوں کو دوسرے اسپتال روانہ کرنا ہماری مجبوری ہے۔
ایسے میں عوام نے مانگ کی ہے کہ عوامی نمائندے اسپتال کے لئے ضروری ڈاکٹر اور عملے کی نامزدگی کے لئے اقدامات کریں۔